Posts

Showing posts from January, 2025

طلاق کا طریقہ اسلام میں

E  سورت بقرہ 229 سورہ البقرۃ آیت نمبر 229 اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمۡسَاکٌۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِیۡحٌۢ بِاِحۡسَانٍ ؕ وَ لَا  یَحِلُّ  لَکُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّاۤ  اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ شَیۡئًا اِلَّاۤ اَنۡ یَّخَافَاۤ  اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ  اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ  ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَا فِیۡمَا افۡتَدَتۡ بِہٖ ؕ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَعۡتَدُوۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۲۹﴾ ترجمہ:  طلاق (زیادہ سے زیادہ) دو بار ہونی چاہیے، اس کے بعد ( شوہر کے لیے دو ہی راستے ہیں) یا تو قاعدے کے مطابق ( بیوی کو) روک رکھے (یعنی طلاق سے رجوع کرلے) یا خوش اسلوبی سے چھوڑ دے (یعنی رجوع کے بغیر عدت گزر جانے دے) اور ( اے شوہرو) تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ تم نے ان ( بیویوں) کو جو کچھ دیا ہو وہ ( طلاق کے بدلے) ان سے واپس لو، الا یہ کہ دونوں کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ (نکاح باقی رہنے کی صورت میں) اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے (١٥١) ۔ چنانچہ اگر تمہیں ...

باندی سے نکاح

 صحیح بخاری کتاب: نکاح کا بیان باب: باندیوں سے محبت کرنے اور باندی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرنے کی برتری کا بیان حدیث نمبر: 5083 ترجمہ: ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوحد بن زیاد نے، کہا ہم سے صالح بن صالح ہمدانی نے، کہا ہم سے عامر شعبی نے، کہا کہ مجھ سے ابوبردہ نے بیان کیا اپنے والد سے، انہوں نے کہا کہ  نبی کریم  ﷺ  نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس لونڈی ہو وہ اسے تعلیم دے اور خوب اچھی طرح دے، اسے ادب سکھائے اور پوری کوشش اور محنت کے ساتھ سکھائے اور اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کرلے تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور اہل کتاب میں سے جو شخص بھی اپنے نبی پر ایمان رکھتا ہو اور مجھ پر ایمان لائے تو اسے دوہرا ثواب ملتا ہے اور جو غلام اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اسے دہرا ثواب ملتا ہے۔ عامر شعبی نے  (اپنے شاگرد سے اس حدیث کو سنانے کے بعد کہا کہ بغیر کسی مشقت اور محنت کے اسے سیکھ لو۔ اس سے پہلے طالب علموں کو اس حدیث سے کم کے لیے بھی مدینہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ اور ابوبکر نے بیان کیا ابوحصین سے، اس نے ابوبردہ سے...

تھوکنے کا

 جامع ترمذی کتاب: سفرکا بیان باب: مسجد میں تھوکنے کی کراہت حدیث نمبر: 571 ترجمہ: طارق بن عبداللہ محاربی ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:  جب تم نماز میں ہو تو اپنے دائیں طرف نہ تھوکو، اپنے پیچھے یا اپنے بائیں طرف یا پھر بائیں پاؤں کے نیچے  (تھوکو) ۔     امام ترمذی کہتے ہیں:  ١- طارق ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے،  ٢- اس باب میں ابوسعید، ابن عمر، انس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔     تخریج دارالدعوہ:  سنن ابی داود/ الصلاة ٢٢ (٤٧٨)، سنن النسائی/المساجد ٣٣ (٧٢٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦١ (١٠٢١)،  ( تحفة الأشراف:Jame' Tirmidhi  جامع ترمذی Hadith # 571 Translation: Sayyidina Tariq ibn Abdullah Maharabi reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When you offer salah, do not spit to your right side, but behind you or to your left, or below your left foot.   [Ahmed 27290, Abu Dawud 478, Nisai 725, Ibn e Majah 1021] ٤٩٨٧)، مسند احمد (٦/٣٩٦) (صحیح)     ...

نماز

 صحیح بخاری کتاب: اذان کا بیان باب: باب: امام اور مقتدی کے لیے قرآت کا واجب ہونا، حضر اور سفر ہر حالت میں، سری اور جہری سب نمازوں میں۔ حدیث نمبر: 756 ترجمہ: ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا محمود بن ربیع سے، انہوں نے عبادہ بن صامت ؓ سے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا، جس شخص نے سورة فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔

جمعہ کا بیان

 صحیح بخاری کتاب: جمعہ کا بیان باب: باب: اگر بارش ہو رہی ہو تو جمعہ میں حاضر ہونا واجب نہیں۔ حدیث نمبر: 901 ترجمہ: ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں صاحب الزیادی عبدالحمید نے خبر دی، کہا کہ ہم سے محمد بن سیرین کے چچازاد بھائی عبداللہ بن حارث نے بیان کیا کہ  عبداللہ بن عباس ؓ نے اپنے مؤذن سے ایک دفعہ بارش کے دن کہا کہ أشهد أن محمدا رسول الله‏ کے بعد حى على الصلاة‏  (نماز کی طرف آؤ)  نہ کہنا بلکہ یہ کہنا کہ صلوا في بيوتكم‏  (اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو)  لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو آپ نے فرمایا کہ اسی طرح مجھ سے بہتر انسان  (رسول اللہ  ﷺ  )  نے کیا تھا۔ بیشک جمعہ فرض ہے اور میں مکروہ جانتا ہوں کہ تمہیں گھروں سے باہر نکال کر مٹی اور کیچڑ پھسلوان میں چلاؤں۔Sahih Bukhari  صحیح بخاری Hadith # 901 Translation: Narrated Muhammad bin Sirin (RA): On a rainy day Ibn Abbas (RA) said to his Muadh-dhin, "After saying, Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah (I testify that Muhammad...

اہم حدیث

 صحیح مسلم کتاب: مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کا بیان باب: قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان حدیث نمبر: 1181 ترجمہ: زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید قطان، ہشام، ان کے والد، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک گرجا کا ذکر کیا جس کو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور اس میں تصویریں لگی ہوئی تھیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں کا یہی حال تھا کہ جب ان میں کوئی نیک مرجاتا تھا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور وہیں تصویر بناتے یہی لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین مخلوق ہوں گے۔Sahih Muslim  صحیح مسلم Hadith # 1181 Translation: Aisha reported: Umm Habiba and Umm Salamah made a mention before the Messenger of Allah ﷺ of a church which they had seen in Abyssinia and which had pictures in it. The Messenger of Allah ﷺ said: When a pious person amongst them (among the religious groups) dies they build a place of worship on his grave, and then decorate it with such pictures. ...

تیمم لا بیان

 صحیح مسلم کتاب: حیض کا بیان باب: تیمم کے بیان میں حدیث نمبر: 818 ترجمہ: یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابومعاویہ، ابوبکر، ابومعاویہ، اعمش، شقیق ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ ؓ کے پاس بیٹھنے والا تھا تو حضرت ابوموسیٰ نے عبداللہ ابن مسعود ؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا اگر کوئی آدمی جنبی ہوجائے اور وہ پانی ایک مہینہ تک نہ پا سکے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ تو عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ وہ تیمم نہ کرے اگرچہ ایک مہنیہ تک پانی نہ پائے تو ابوموسی ؓ نے فرمایا کہ جو آیت سورت مائدہ میں ہے (فَلَمْ تَجِدُوْا مَا ءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا) 5۔ المائدہ: 6) اس کا کیا مطلب ہے تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا اگر لوگوں کو اس آیت کی بنا پر اجازت دی گئی تو مجھے اندیشہ ہے کہ جب ان کو سردی لگے تو وہ تو مٹی کے ساتھ تیمم کرنے لگیں گے تو ابوموسی ؓ نے حضرت عبداللہ سے کہا کہ کیا آپ نے حضرت عمار کی یہ حدیث نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے کسی کام کی غرض سے بھیجا میں جنبی ہوگیا اور میں پانی نہیں پاتا تھا تو میں مٹی میں اس طرح لیٹا جس طرح جانور لیٹتا ہے پھر میں نبی کری...

تیمم کا بیان

 صحیح بخاری کتاب: تیمم کا بیان باب: تیمم کے احکام، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ پس تم پاک مٹی سے تیمم کرو اور اس سے اپنے منہ کو اور ہاتھوں کو ملو، جو تیمم کی اجازت دیتا ہے حدیث نمبر: 334 ترجمہ: ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں مالک نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ عائشہ ؓ سے، آپ نے بتلایا کہ  ہم رسول اللہ  ﷺ  کے ساتھ بعض سفر  (غزوہ بنی المصطلق)  میں تھے۔ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ایک ہار کھو گیا۔ رسول اللہ  ﷺ  اس کی تلاش میں وہیں ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ  ﷺ  کے ساتھ ٹھہر گئے۔ لیکن وہاں پانی کہیں قریب میں نہ تھا۔ لوگ ابوبکر ؓ کے پاس آئے اور کہا   عائشہ ؓ نے کیا کام کیا؟ کہ رسول اللہ  ﷺ  اور تمام لوگوں کو ٹھہرا دیا ہے اور پانی بھی کہیں قریب میں نہیں ہے اور نہ لوگوں ہی کے ساتھ ہے۔   پھر ابوبکر صدیق ؓ تشریف لائے، رسول اللہ  ﷺ  اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے ہوئے سو رہے تھے۔ فرمانے لگے کہ تم نے رسول اللہ ...

نذرکہ بارے میں

 جامع ترمذی کتاب: نذر اور قسموں کا بیان باب: اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کی صورت میں نذر مانناصحیح نہیں۔ حدیث نمبر: 1525 ترجمہ: ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا:  اللہ کی معصیت پر مبنی کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔     امام ترمذی کہتے ہیں:  ١ - یہ حدیث غریب ہے،  ٢ - اور ابوصفوان کی اس حدیث سے جسے وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، زیادہ صحیح ہے،  ٣ - ابوصفوان مکی ہیں، ان کا نام عبداللہ بن سعید بن عبدالملک بن مروان ہے، ان سے حمیدی اور کئی بڑے بڑے محدثین نے روایت کی ہے،  ٤ - اہل علم صحابہ کی ایک جماعت اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: اللہ کی معصیت کے سلسلے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، ان دونوں نے زہری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے وہ ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ عائشہ سے روایت کرتے ہیں،  ٥ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: معصیت میں کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس میں کوئی کفارہ بھی نہیں، مالک اور شافعی کا یہی قول...

نماز کہ وقت

جامع ترمذی کتاب: نماز کا بیان باب: فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنے کے بارے میں حدیث نمبر: 153 ترجمہ: ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  جب فجر پڑھا لیتے تو پھر عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی لوٹتیں وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔     امام ترمذی کہتے ہیں:  ١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے،  ٢- اس باب میں ابن عمر، انس، اور قیلہ بنت مخرمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں،  ٣- اور اسی کو صحابہ کرام جن میں ابوبکر و عمر ؓ بھی شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے بہت سے اہل علم نے پسند کیا ہے، اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ فجر «غلس»  (اندھیرے)  میں پڑھنا مستحب ہے۔     تخریج دارالدعوہ:  صحیح البخاری/الصلاة ١٣ (٣٧٢)، والمواقیت ٢٧ (٥٧٨)، والأذان ١٦٣ (٨٦٧)، و ١٦٥ (٨٧٢)، صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ٨ (٤٢٣)، سنن النسائی/المواقیت ٢٥ (٥٤٧، ٥٤٦)، والسہو ١٠١ (١٣٦٣)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٦٩)،  ( تحفة الأشراف: ٣٥٨٢)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٤)، مسند احمد (٦/٣...

گانے کی کمائی

 سنن ابن ماجہ کتاب: تجارت ومعاملات کا بیان باب: جن چیزوں کو بیچناجائز ہے۔ حدیث نمبر: 2168 ترجمہ: ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ نے مغنیہ  (گانے والی عورتوں)  کی خریدو فروخت، ان کی کمائی اور ان کی قیمت کھانے سے منع کیا ہے۔     تخریج دارالدعوہ:  سنن الترمذی/البیوع ١٥ (١٢٨٢)، (تحفة الأشراف: ٤٨٩٨) (حسن)  (سند میں ابو المہلب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی:  ٢٩٢٢  )

حرام کمائی

 سنن ابن ماجہ کتاب: تجارت ومعاملات کا بیان باب: کتے کی قیمت زنا کی اجرت نجومی کی اجرت اور سانڈ چھوڑنے کی اجرت سے ممانعت۔ حدیث نمبر: 2159 ترجمہ: ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری ؓ سے روایت ہے کہ  نبی اکرم ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا ہے  ١ ؎۔     تخریج دارالدعوہ:  صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧)، الإجارة ٢٠ (٢٢٨٢)، الطلاق ٥١ (٥٣٤٦)، الطب ٤٦ (٥٧٦١)، صحیح مسلم/المساقاة ٩ (١٥٦٧)، سنن ابی داود/البیوع ٤١ (٣٤٢٨)، ٦٥ (٣٤٨١)، سنن الترمذی/البیوع ٤٦ (١٢٧٦)، النکاح ٣٧ (١١٣٣)، الطب ٢٣ (٢٠٧١)، سنن النسائی/الصید والذبائح ١٥ (٤٢٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٢٩ (٦٨)، مسند احمد (١/١١٨، ١٢٠، ١٤٠، ١٤١)، سنن الدارمی/البیوع ٣٤ (٢٦١٠) (صحیح  )     وضاحت:  ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتے کی خریدو فروخت جائز نہیں ہے، مگر نسائی کی روایت کے مطابق شکاری کتا اس سے مستثنی ہے یعنی اس کی قیمت جائز اور نجومی میں وہ رمال، جفار اور جوتشی وغیرہ بھی شامل ہیں جو مستقبل کی باتیں بتاتے ہیں۔Ibn-e-Ma...

قران پاک کی اجرت حرام ہے

 سنن ابن ماجہ کتاب: تجارت ومعاملات کا بیان باب: قرآن سکھانے پر اجرت لینا۔ حدیث نمبر: 2157 ترجمہ: عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ  میں نے اہل صفہ میں سے کئی لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا، تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی، میں نے اپنے جی میں کہا: یہ تو مال نہیں ہے، یہ اللہ کے راستے میں تیر اندازی کے لیے میرے کام آئے گا، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:  اگر تم کو یہ اچھا لگے کہ اس کمان کے بدلے تم کو آگ کا ایک طوق پہنایا جائے تو اس کو قبول کرلو   ١ ؎۔     تخریج دارالدعوہ:  سنن ابی داود/البیوع ٣٧ (٣٤١٦)، (تحفة الأشراف: ٥٠٦٨)، وقدأخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٥) (صحیح)  (سند میں اسود بن ثعلبہ مجہول راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی:  ٢٥٦  )     وضاحت:  ١ ؎: اہل صفہ وہ صحابہ جو مسجد نبوی کے سائبان میں رہا کرتے تھے۔ اس حدیث سے حنفیہ نے استدلال کرتے ہوئے تعلیم قرآن پر اجرت لینے کو ناجائز کہا ہے، تلاوت پر اجرت لینا ج...

سزا ان کی

 وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ  (1)   ↖ ہر غیبت کرنے والے طعنہ دینے والے کے لیے ہلاکت ہے۔ اَلَّذِىْ جَـمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٝ  (2)   ↖ جو مال کو جمع کرتا ہے اور اسے گنتا رہتا ہے۔ يَحْسَبُ اَنَّ مَالَـهٝٓ اَخْلَـدَهٝ  (3)   ↖ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اسے سدا رکھے گا۔ كَلَّا ۖ لَيُنْـبَذَنَّ فِى الْحُطَمَةِ  (4)   ↖ ہرگز نہیں، وہ ضرور حطمہ میں پھینکا جائے گا۔ وَمَآ اَدْرَاكَ مَا الْحُطَمَةُ  (5)   ↖ اور آپ کو کیا معلوم حطمہ کیا ہے۔ نَارُ اللّـٰهِ الْمُوْقَدَةُ  (6)   ↖ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ اَلَّتِىْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِ  (7)   ↖ جو دلوں تک جا پہنچتی ہے۔ اِنَّـهَا عَلَيْـهِـمْ مُّؤْصَدَةٌ  (8)   ↖ بے شک وہ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی جائے گی۔ فِىْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ  (9)   ↖ لمبے لمبے ستونوں میں۔ تعارف    -    غلطی کی نشاند

حقوق العباد قران کی نظر میں

Image
 لَّيْسَ الْبِـرَّ اَنْ تُـوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِـرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلَآئِكَـةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّيْنَۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَالسَّآئِلِيْنَ وَفِى الرِّقَابِۚ وَاَقَامَ الصَّلَاةَ وَاٰتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِـمْ اِذَا عَاهَدُوْا ۖ وَالصَّابِـرِيْنَ فِى الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۗ اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ صَدَقُوْا ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُتَّقُوْنَ  (177) یہی نیکی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو بلکہ نیکی تو یہ ہے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر، اور اس کی محبت میں رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سوال کرنے والوں کو اور گردنوں کے چھڑانے میں مال دے، اور نماز پڑھے اور زکوٰۃ دے، اور جو اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں جب وہ عہد کرلیں، اورتنگدستی میں اور بیماری میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی س...