نذرکہ بارے میں

 جامع ترمذی

کتاب: نذر اور قسموں کا بیان

باب: اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کی صورت میں نذر مانناصحیح نہیں۔

حدیث نمبر: 1525


ترجمہ:

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا:  اللہ کی معصیت پر مبنی کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔   

 امام ترمذی کہتے ہیں:  ١ - یہ حدیث غریب ہے،  ٢ - اور ابوصفوان کی اس حدیث سے جسے وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، زیادہ صحیح ہے،  ٣ - ابوصفوان مکی ہیں، ان کا نام عبداللہ بن سعید بن عبدالملک بن مروان ہے، ان سے حمیدی اور کئی بڑے بڑے محدثین نے روایت کی ہے،  ٤ - اہل علم صحابہ کی ایک جماعت اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: اللہ کی معصیت کے سلسلے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، ان دونوں نے زہری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے وہ ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ عائشہ سے روایت کرتے ہیں،  ٥ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: معصیت میں کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس میں کوئی کفارہ بھی نہیں، مالک اور شافعی کا یہی قول ہے۔   

 تخریج دارالدعوہ:  انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٧٧٨٢) (صحیح) (سند میں " سلیمان بن ارقم " ضعیف ہیں، مگر سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے  )   

 قال الشيخ الألباني:  صحيح بما قبله (1524)   

 صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1525Jame' Tirmidhi  جامع ترمذی

Hadith # 1525


Translation:

Abu Isma’il Muhammad ibn lsma’il ibn Yusuf Tirmidhi: reported from Ayyub ibn Sulayman ibn Bilal (RA) , from Abu Bakr (RA) ibn Uways, from Sulayman ibn Bilal (RA) , from Musa ibn Uqbah and Abdullah ibn Abu Atiq, from Zuhri, from Sulayman ibn Arqam, from Yahya ibn Abu Kathir, from Abu Salamah from Sayyidah Ayshah (RA) and she from the Prophet ﷺ the same hadith.   [Abu Dawud 3292]جامع ترمذی

کتاب: نذر اور قسموں کا بیان

باب: اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کی صورت میں نذر مانناصحیح نہیں۔

حدیث نمبر: 1524


ترجمہ:

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:  معصیت کے کاموں میں نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے   ١ ؎۔   

 امام ترمذی کہتے ہیں:  ١ - یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ زہری نے اس کو ابوسلمہ سے نہیں سنا ہے،  ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، انہیں میں موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابی عتیق ہیں، ان دونوں نے زہری سے بطریق: «سليمان بن أرقم عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عائشة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: وہ حدیث یہی ہے  (اور آگے آرہی ہے) ،  ٣ - اس باب میں ابن عمر، جابر اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔   

 تخریج دارالدعوہ:  سنن ابی داود/ الأیمان ٢٣ (٣٢٩٠-٣٢٩٢)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦ (٢١٢٥)، سنن النسائی/الأیمان ٤١ (٣٨٦٥-٣٨٧٠) (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٠)، و مسند احمد (٦/٢٤٧) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء رقم: ٢٥٩٠  )   

 وضاحت:  ١ ؎: یعنی معصیت کی نذر پوری نہیں کی جائے گی، البتہ اس میں قسم کا کفارہ دینا ہوگا، نذر کی اصل انذار ہے جس کے معنی ڈرانے کے ہیں، امام راغب فرماتے ہیں کہ نذر کے معنی کسی حادثہ کی وجہ سے ایک غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینے کے ہیں، قسم کے کفارے کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے: «لا يؤاخذکم اللہ باللغو في أيمانکم ولکن يؤاخذکم بما عقدتم الأيمان فکفارته إطعام عشرة مساکين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو کسوتهم أو تحرير رقبة فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام ذلک کفارة أيمانکم إذا حلفتم»  اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا لیکن مواخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو موکد کر دو، اس کا کفارہ دس مساکین کو اوسط درجہ کا جو خود کھاتے ہیں وہ کھانا کھلا نا یا کپڑے پہنانا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، پس جو شخص یہ نہ پائے تو اسے تین روزے رکھنے ہوں گے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھالو میں ہے  (المائدة:  ٨٩  )، یہ حدیث معصیت کی نذر میں کفارہ کے واجب ہونے کا تقاضا کرتی ہے، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کی یہی رائے ہے مگر جمہور علماء اس کے مخالف ہیں، ان کے نزدیک وجوب سے متعلق احادیث ضعیف ہیں، لیکن شارح ترمذی کہتے ہیں کہ باب کی اس حدیث کے بہت سے طرق ہیں، ان سے حجت پکڑی جاسکتی ہے۔ «واللہ اعلم »  

 قال الشيخ الألباني:  صحيح، ابن ماجة (2125)   

 صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1524

Comments