حرام کمائی

 سنن ابن ماجہ

کتاب: تجارت ومعاملات کا بیان

باب: کتے کی قیمت زنا کی اجرت نجومی کی اجرت اور سانڈ چھوڑنے کی اجرت سے ممانعت۔

حدیث نمبر: 2159


ترجمہ:

ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری ؓ سے روایت ہے کہ  نبی اکرم ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا ہے  ١ ؎۔   

 تخریج دارالدعوہ:  صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧)، الإجارة ٢٠ (٢٢٨٢)، الطلاق ٥١ (٥٣٤٦)، الطب ٤٦ (٥٧٦١)، صحیح مسلم/المساقاة ٩ (١٥٦٧)، سنن ابی داود/البیوع ٤١ (٣٤٢٨)، ٦٥ (٣٤٨١)، سنن الترمذی/البیوع ٤٦ (١٢٧٦)، النکاح ٣٧ (١١٣٣)، الطب ٢٣ (٢٠٧١)، سنن النسائی/الصید والذبائح ١٥ (٤٢٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٢٩ (٦٨)، مسند احمد (١/١١٨، ١٢٠، ١٤٠، ١٤١)، سنن الدارمی/البیوع ٣٤ (٢٦١٠) (صحیح  )   

 وضاحت:  ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتے کی خریدو فروخت جائز نہیں ہے، مگر نسائی کی روایت کے مطابق شکاری کتا اس سے مستثنی ہے یعنی اس کی قیمت جائز اور نجومی میں وہ رمال، جفار اور جوتشی وغیرہ بھی شامل ہیں جو مستقبل کی باتیں بتاتے ہیں۔Ibn-e-Majah  سنن ابن ماجہ

Hadith # 2159


Translation:سنن ابن ماجہ

کتاب: تجارت ومعاملات کا بیان

باب: کتے کی قیمت زنا کی اجرت نجومی کی اجرت اور سانڈ چھوڑنے کی اجرت سے ممانعت۔

حدیث نمبر: 2161


ترجمہ:

جابر ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ نے بلی کی قیمت سے منع کیا ہے۔   

 تخریج دارالدعوہ:  تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ٢٧٨٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٤٩ (١٢٧٩)، سنن النسائی/الصید ١٦ (٤٣٠٠)، البیوع ٩٠ (٤٦٧٢)، سنن ابی داود/البیوع ٦٤ (٣٤٧٩)، مسند احمد (٣/٣٣٩، ٣٤٩) (صحیح)  (سند میں ابن لہیعہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ایسا ہی ابوالزبیر کی روایت کا معاملہ ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة:  ٢٩٧١  )   

 وضاحت:  ١ ؎: کیونکہ بلی بلا قیمت اکثر جگہوں پر مل جاتی ہے، اور اس کی نسل بھی بہت ہوتی ہے، قیمت سے خریدنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اکثر علماء کہتے ہیں کہ یہ نہی تنزیہی ہے (یعنی نہ خریدنا زیادہ اچھا ہے)، ابوہریرہ ؓ اور تابعین کی ایک جماعت سے یہ مروی ہے کہ بلی کی قیمت کسی حال میں لینا جائز نہیں، اور اہل حدیث کا بھی یہی مذہب ہے۔

It was narrated from Abu Masud that the Prophet ﷺ forbade the price of a dog, the payment (given to a prostitute) and the payment made to a soothsayer. (Sahih)Ibn-e-Majah  سنن ابن ماجہ

Hadith # 2161


Translation:

It was narrated from Abu Az-Zubair that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade the price of a cat." (Sahih)سنن ابن ماجہ

کتاب: تجارت ومعاملات کا بیان

باب: جن چیزوں کو بیچناجائز ہے۔

حدیث نمبر: 2167


ترجمہ:

عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ  میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال جب کہ آپ مکہ میں تھے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خریدو فروخت کو حرام قرار دیا ہے، اس وقت آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں ہمیں بتائیے اس کا کیا حکم ہے؟ اس سے کشتیوں اور کھالوں کو چکنا کیا جاتا ہے، اور اس سے لوگ چراغ جلاتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:  نہیں  (یہ بھی جائز نہیں)  یہ سب چیزیں حرام ہیں ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا:  اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے  (حیلہ یہ کیا کہ)  پگھلا کر اس کی شکل بدل دی، پھر اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی   ١ ؎۔   

 تخریج دارالدعوہ:  صحیح البخاری/البیوع ١١٢ (٢٢٣٦)، المغازي ٥١ (٤٢٩٦)، سورة الأنعام ٦ (٤٦٣٣)، صحیح مسلم/المساقاة ١٣ (١٥٨١)، سنن ابی داود/البیوع ٦٦ (٣٤٨٦، ٣٤٨٧)، سنن الترمذی/البیوع ٦١ (١٢٩٧)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٧ (٤٢٦١)، البیوع ٩١ (٤٦٧٣)، (تحفة الأشراف: ٢٤٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٤، ٣٧٠) (صحیح  )   

 وضاحت:  ١ ؎: ظاہر میں انہوں نے شرعی حیلہ کیا کہ چربی نہیں کھائی، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ دلوں کی بات کو جانتا ہے، اور اس کے سامنے کوئی حیلہ نہیں چل سکتا، بلکہ کیا عجب ہے کہ حیلہ کرنے والے کو اصل گناہ کرنے والے سے زیادہ عذاب ہو، کیونکہ اصل گناہ کرنے والا نادم اور شرمسار ہوتا ہے، اور اپنے گناہ پر اپنے آپ کو قصوروار سمجھتا ہے، لیکن شرعی حیلے کرنے والے تو خوب غراتے اور گردن کی رگیں پھلاتے ہیں، اور بحث کرنے پر مستعد ہوتے ہیں کہ ہم نے کوئی گناہ کی بات نہیں کی، دوسری حدیث میں ہے کہ شراب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دس آدمیوں پر لعنت کی، نچوڑنے والے، نچڑوانے والے پر، پینے والے اور اٹھانے والے پر، جس کے لئے اٹھایا جائے، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، خریدنے والے پر، جس کے لئے خریدا اس پر، بڑے افسوس کی بات ہے کہ اکثر مسلم ممالک میں اعلانیہ شراب اور سور کے گوشت کی خریدوفروخت ہوتی ہے، اور اس سے بڑھ کر افسوس اس پر ہے کہ مسلمان خود شراب پیتے اور دوسروں کو پلاتے ہیں، اور اللہ اور رسول  ﷺ سے نہیں شرماتے، اور یہ نہیں جانتے کہ شراب کا پلانے والا بھی ملعون ہے، جیسے پینے والا، اور شراب کا خریدنے والا بھی ملعون ہے، اور جس دستر خوان یا میز پر شراب پی جائے وہاں پر کھانا حرام ہے گو خود نہ پئے۔Ibn-e-Majah  سنن ابن ماجہ

Hadith # 2167


Translation:

"Ata bin Abu Rabah said: I heard Jâbir bin ‘Abdullâh say: “In the Year of the Conquest, while he was in Makkah, the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah and His Messenger have forbidden the sale of wines, meat of dead animals, pigs and idols.’ It was said to him: ‘O Messenger of Allah, what do you think of the fat of dead animals, for it is used to caulk ships, it is daubed on animal skins and people use it to light their lamps?’ He said: ‘No, it is unlawful.’ Then the Messenger ofIbn-e-Majah  سنن ابن ماجہ

Hadith # 2168


Translation:

It was narrated that Abu Umamah said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade selling or buying singing girld,. and their wages, and consuming their price." (Daif) Allah ﷺ said: ‘May Allah curse the Jews, for Allah forbade them the fat (of animals) but they rendered it, (i.e. melted it) sold it and consumed its price.” (Sahih)

Comments