قران پاک کی اجرت حرام ہے

 سنن ابن ماجہ

کتاب: تجارت ومعاملات کا بیان

باب: قرآن سکھانے پر اجرت لینا۔

حدیث نمبر: 2157


ترجمہ:

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ  میں نے اہل صفہ میں سے کئی لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا، تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی، میں نے اپنے جی میں کہا: یہ تو مال نہیں ہے، یہ اللہ کے راستے میں تیر اندازی کے لیے میرے کام آئے گا، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:  اگر تم کو یہ اچھا لگے کہ اس کمان کے بدلے تم کو آگ کا ایک طوق پہنایا جائے تو اس کو قبول کرلو   ١ ؎۔   

 تخریج دارالدعوہ:  سنن ابی داود/البیوع ٣٧ (٣٤١٦)، (تحفة الأشراف: ٥٠٦٨)، وقدأخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٥) (صحیح)  (سند میں اسود بن ثعلبہ مجہول راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی:  ٢٥٦  )   

 وضاحت:  ١ ؎: اہل صفہ وہ صحابہ جو مسجد نبوی کے سائبان میں رہا کرتے تھے۔ اس حدیث سے حنفیہ نے استدلال کرتے ہوئے تعلیم قرآن پر اجرت لینے کو ناجائز کہا ہے، تلاوت پر اجرت لینا جائز ہے، تلاوت پر اجرت لینے کا جواز ابوسعید خدری ؓ کی حدیث سے نکلتا ہے (جو اوپر گزری، ملاحظہ ہو حدیث  ٢١٥٦  )، اور صحیح بخاری میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ لوگوں نے ابوسعید سے کہا: آپ نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی، اس پر انہوں نے فرمایا کہ سب سے زیادہ جس کے اجرت لینے کا حق ہے، وہ اللہ کی کتاب ہے، اور احمد، ابوداود اور نسائی میں ہے کہ خارجہ کے چچا نے جب سورة فاتحہ سے دیوانے پر جھاڑ پھونک کی تو نبی کریم  ﷺ نے فرمایا: تم اس کی اجرت لے لو، قسم میری عمر کی! لوگ تو جھاڑ پھونک سے جھوٹ پیدا کرتے ہیں تو نے سچ جھاڑ پھونک کر کے کھایا۔ اور تعلیم پر اجرت جائز نہ ہونے کی دلیل عبادہ ؓ کی یہ حدیث ہے، دوسرے ابی ؓ کی حدیث جو آگے آرہی ہے، تیسرے مسند احمد میں عبدالرحمن بن شبل ؓ سے مرفوعاً آیا ہے کہ قرآن پڑھو، اس میں غلو اور جفا مت کرو اور اس سے روٹی مت کھاؤ اور مال مت بڑھاؤ، بزار نے بھی اس کے کئی شاہد ذکر کئے ہیں۔ چوتھی مسند احمد و ترمذی میں عمران بن حصین ؓ سے ہے کہ نبی کریم  ﷺ سے فرمایا: قرآن پڑھو اور اللہ تعالیٰ سے قرآن کا بدلہ مانگو، اس لئے کہ تمہارے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو لوگوں سے قرآن کا عوض مانگیں گے، اس باب میں کئی حدیثیں ہیں۔ لیکن جن علماء نے تعلیم قرآن پر اجرت کے جواز کا فتوی دیا ہے وہ اس اعتبار سے کہ اس کے سیکھنے سکھانے میں معلم نے اپنا وقت لگایا، تو اس کے لئے اس نیک عمل پر اجرت کا لینا وقت کے مقابل جائز ہوا۔سنن ابن ماجہ

کتاب: تجارت ومعاملات کا بیان

باب: قرآن سکھانے پر اجرت لینا۔

حدیث نمبر: 2158


ترجمہ:

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ  میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھنا سکھایا تو اس نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:  اگر تم نے یہ لی تو آگ کی ایک کمان لی ، اس وجہ سے میں نے اس کو واپس کردیا۔   

 تخریج دارالدعوہ:  تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٩، ومصباح الزجاجة: ٧٥٨) (صحیح)  (سند میں عطیہ اور أبی بن کعب ؓ کے درمیان انقطاع ہے، اور عبدالرحمن بن سلم مجہول راوی ہیں، سند میں اضطراب بھی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء:  ١٤٩٣  )Ibn-e-Majah  سنن ابن ماجہ

Hadith # 2158


Translation:

It was narrated that Ubayy bin Ka’b said: “I taught a man the Qur’ân, and he gave me a bow. I mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘If you accept it you will be accepting a bow of fire.’ So I returned it.” (Da’if)Ibn-e-Majah  سنن ابن ماجہ

Hadith # 2157


Translation:

It was narrated that Ubadahh bin Samit said: "I taught people from Ahliss-Suffah the Quran and how to write, and one of them gave me a bow. I said: It is not money, and I can shoot (with it) for the sake of Allah: I asked the Messenger of Allah ﷺ about it and he said: If it would please you to have a necklace of fire placed around your neck, then accept it:" (Hasan)

Comments