نماز کہ وقت
جامع ترمذی
کتاب: نماز کا بیان
باب: فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنے کے بارے میں
حدیث نمبر: 153
ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر پڑھا لیتے تو پھر عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی لوٹتیں وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، انس، اور قیلہ بنت مخرمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی کو صحابہ کرام جن میں ابوبکر و عمر ؓ بھی شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے بہت سے اہل علم نے پسند کیا ہے، اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ فجر «غلس» (اندھیرے) میں پڑھنا مستحب ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٣ (٣٧٢)، والمواقیت ٢٧ (٥٧٨)، والأذان ١٦٣ (٨٦٧)، و ١٦٥ (٨٧٢)، صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ٨ (٤٢٣)، سنن النسائی/المواقیت ٢٥ (٥٤٧، ٥٤٦)، والسہو ١٠١ (١٣٦٣)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٦٩)، ( تحفة الأشراف: ٣٥٨٢)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٤)، مسند احمد (٦/٣٣، ٣٦، ١٧٩، ٢٤٨، ٢٥٩) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (669)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 153جامع ترمذی
کتاب: نماز کا بیان
باب: سخت گرمی میں ظہر کی نماز دیر سے پڑھنا
حدیث نمبر: 157
ترجمہ:
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈا ہونے پر پڑھو ١ ؎ کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے ٢ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوسعید، ابوذر، ابن عمر، مغیرہ، اور قاسم بن صفوان کے باپ ابوموسیٰ، ابن عباس اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اس سلسلے میں عمر ؓ سے بھی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، ٤- اہل علم میں کچھ لوگوں نے سخت گرمی میں ظہر تاخیر سے پڑھنے کو پسند کیا ہے۔ یہی ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: ظہر ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی بات اس وقت کی ہے جب مسجد والے دور سے آتے ہوں، رہا اکیلے نماز پڑھنے والا اور وہ شخص جو اپنے ہی لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو میں اس کے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ وہ سخت گرمی میں بھی نماز کو دیر سے نہ پڑھے، ٥- جو لوگ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنے کی طرف گئے ہیں ان کا مذہب زیادہ بہتر اور اتباع کے زیادہ لائق ہے، رہی وہ بات جس کی طرف شافعی کا رجحان ہے کہ یہ رخصت اس کے لیے ہے جو دور سے آتا ہوتا کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو تو ابوذر ؓ کی حدیث میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جو امام شافعی کے قول کے خلاف ہیں۔ ابوذر ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، بلال ؓ نے نماز ظہر کے لیے اذان دی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلال! ٹھنڈا ہوجانے دو، ٹھنڈا ہوجانے دو (یہ حدیث آگے آرہی ہے) ، اب اگر بات ایسی ہوتی جس کی طرف شافعی گئے ہیں، تو اس وقت ٹھنڈا کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا، اس لیے کہ سفر میں سب لوگ اکٹھا تھے، انہیں دور سے آنے کی ضرورت نہ تھی۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت ٩ (٥٣٨)، صحیح مسلم/المساجد ٣٢ (٦١٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ٤ (٤٠٢)، سنن النسائی/المواقیت ٥ (٥٠١)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٤ (٦٧٧)، ( تحفة الأشراف: ١٣٢٢٦، ١٢٣٧)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٧ (٩٨)، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٣٨، ٢٥٦، ٢٦٦، ٣٤٨، ٣٧٧، ٣٩٣، ٤٠، ٤١١، ٤٦٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤ (١٢٤٣)، والرقاق ١١٩ (٢٨٨٧) (صحیح)
وضاحت: ١ ؎: یعنی کچھ انتظار کرلو ٹھنڈا ہوجائے تب پڑھو، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موسم گرما میں ظہر قدرے تاخیر کر کے پڑھنی چاہیئے اس تاخیر کی حد کے بارے میں ابوداؤد اور نسائی میں ایک روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ موسم گرما میں ظہر میں اتنی تاخیر کرتے کہ سایہ تین قدم سے لے کر پانچ قدم تک ہوجاتا، مگر علامہ خطابی نے کہا ہے کہ یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے بلکہ طول البلد اور عرض البلد کے اعتبار سے اس کا حساب بھی مختلف ہوگا، بہرحال موسم گرما میں نماز ظہر قدرے تاخیر سے پڑھنی مستحب ہے، یہی جمہور کی رائے ہے۔ ٢ ؎: اسے حقیقی اور ظاہری معنی پر محمول کرنا زیادہ صحیح ہے کیونکہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ جہنم کی آگ نے رب عزوجل سے شکایت کی کہ میرے بعض اجزاء گرمی کی شدت اور گھٹن سے بعض کو کھا گئے ہیں تو رب عزوجل نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں اور ایک گرمی میں، جاڑے میں سانس اندر کی طرف لیتی ہے اور گرمی میں باہر نکالتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (678)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 157جامع ترمذی
کتاب: نماز کا بیان
باب: عصر کی نماز جلدی پڑھنا
حدیث نمبر: 159
ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر پڑھی اس حال میں کہ دھوپ ان کے کمرے میں تھی، ان کے کمرے کے اندر کا سایہ پورب والی دیوار پر نہیں چڑھا تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، ابوارویٰ، جابر اور رافع بن خدیج ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، (اور رافع ؓ سے عصر کو مؤخر کرنے کی بھی روایت کی جاتی ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ٣- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم نے جن میں عمر، عبداللہ بن مسعود، عائشہ اور انس ؓ بھی شامل ہیں اور تابعین میں سے کئی لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ عصر جلدی پڑھی جائے اور اس میں تاخیر کرنے کو ان لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے اسی کے قائل عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت ١ (٥٢٢)، و ١٣ (٥٤٥)، والخمس ٤ (٣١٠٣)، صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١١)، سنن ابی داود/ الصلاة ٥ (٤٠٧)، سنن النسائی/المواقیت ٨ (٥٠٦)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٥ (٦٨٣)، ( تحفة الأشراف: ١٦٥٨٥)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٢) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (683)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 159جامع ترمذی
کتاب: نماز کا بیان
باب: مغرب کے وقت کے بارے میں
حدیث نمبر: 164
ترجمہ:
سلمہ بن الاکوع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا اور پردے میں چھپ جاتا ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١- سلمہ بن الاکوع والی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، صنابحی، زید بن خالد، انس، رافع بن خدیج، ابوایوب، ام حبیبہ، عباس بن عبدالمطلب اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- عباس ؓ کی حدیث ان سے موقوفاً روایت کی گئی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، ٤- اور صنابحی نے نبی اکرم ﷺ سے نہیں سنا ہے، وہ تو ابوبکر ؓ کے دور کے ہیں، ٥- اور یہی قول صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا ہے، ان لوگوں نے نماز مغرب جلدی پڑھنے کو پسند کیا ہے اور اسے مؤخر کرنے کو مکروہ سمجھا ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب کا ایک ہی وقت ہے ٢ ؎، یہ تمام حضرات نبی اکرم ﷺ کی اس حدیث کی طرف گئے ہیں جس میں ہے کہ جبرائیل نے آپ کو نماز پڑھائی اور یہی ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت ١٨ (٥٦١)، صحیح مسلم/المساجد ٣٨ (٦٣٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ٦ (٤١٧)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٧ (٦٨٨)، ( تحفة الأشراف: ٤٥٣٥) (صحیح)
وضاحت: ١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مغرب کا وقت سورج ڈوبنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مغرب میں تاخیر نہیں کرنی چاہیئے بلکہ اسے اول وقت ہی میں ادا کرنا چاہیئے۔ ٢ ؎: سلف کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ مغرب کا وقت «ممتد» پھیلا ہوا ہے یا غیر ممتد، جمہور کے نزدیک سورج ڈوبنے سے لے کر شفق ڈوبنے تک پھیلا ہوا ہے، اور شافعی اور ابن مبارک کی رائے ہے کہ مغرب کا صرف ایک ہی وقت ہے اور وہ اول وقت ہے، ان لوگوں کی دلیل جبرائیل (علیہ السلام) والی روایت ہے جس میں ہے کہ دونوں دنوں میں آپ نے مغرب سورج ڈوبنے کے فوراً بعد پڑھائی اور جمہور کی دلیل صحیح مسلم میں موجود ابوموسیٰ کی روایت ہے، اس میں ہے «ثم أخر المغرب حتی کان عند سقوط الشفق» جمہور کی رائے ہی زیادہ صحیح ہے، جمہور نے جبرائیل والی روایت کا جواب تین طریقے سے دیا ہے: ١- اس میں صرف افضل وقت کے بیان پر اکتفا کیا گیا ہے، وقت جواز کو بیان نہیں گیا، ٢- جبرائیل کی روایت متقدم ہے مکی دور کی اور مغرب کا وقت شفق ڈوبنے تک ممتد ہونے کی روایت متاخر ہے مدنی دور کی، ٣- یہ روایت جبرائیل والی روایت سے سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (688)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 164جامع ترمذی
کتاب: نماز کا بیان
باب: عشاء کی نماز کا وقت
حدیث نمبر: 165
ترجمہ:
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ اس نماز عشاء کے وقت کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ٧ (٤١٩)، سنن النسائی/المواقیت ١٩ (٥٢٩)، ( تحفة الأشراف: ١١٦١٤)، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧٤) (صحیح)
وضاحت: ١ ؎: حدیث جبرائیل میں یہ بات آچکی ہے کہ عشاء کا وقت شفق غائب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے، یہ اجماعی مسئلہ ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں، رہی یہ بات کہ اس کا آخری وقت کیا ہے تو صحیح اور صریح احادیث سے جو بات ثابت ہے وہ یہی ہے کہ اس کا آخری وقت طلوع فجر تک ہے جن روایتوں میں آدھی رات تک کا ذکر ہے اس سے مراد اس کا افضل وقت ہے جو تیسری رات کے چاند ڈوبنے کے وقت سے شروع ہوتا ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ عموماً اسی وقت نماز عشاء پڑھتے تھے، لیکن مشقت کے پیش نظر امت کو اس سے پہلے پڑھ لینے کی اجازت دے دی۔ ( دیکھئیے اگلی حدیث رقم ١٦٧)
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشکاة (613)، صحيح أبي داود (445)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 165
Comments
Post a Comment