اعمال ہی کام آے گےقبر میں

 جامع ترمذی

کتاب: گواہیوں کا بیانJame' Tirmidhi  جامع ترمذی

Hadith # 2310


Translation:

Sayyidina Aisha (RA) narrated when this verse “and warn your clan, the nearest kin” (26:214) was revealed, Allah’s Messenger ﷺ said, “O Saifyah daughterod abdul Muttalib, O Fatimah daughter of Muhammad , O children of Abdul Muttalib, I cannot help you before Allah in the least. (However), you may askme for whatever you like of my wealth”  [Ahmed 2592, Muslim 205, Nisai 3647]

باب: نبی ﷺ کا امت کو خوف دلانا

حدیث نمبر: 2310


ترجمہ:

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ  جب یہ آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتک الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ  ﷺ  نے ارشاد فرمایا: اے عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ!، اے محمد کی بیٹی فاطمہ! اے عبدالمطلب کی اولاد! اللہ کی طرف سے تم لوگوں کے نفع و نقصان کا مجھے کچھ بھی اختیار نہیں ہے، تم میرے مال میں سے تم سب کو جو کچھ مانگنا ہو وہ مجھ سے مانگ لو  ١ ؎۔   

 امام ترمذی کہتے ہیں:  ١ - عائشہ کی حدیث حسن غریب ہے،  ٢ - ان میں سے بعض نے اسی طرح ہشام بن عروہ سے روایت کی ہے، اور بعض نے «عن هشام عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کی ہے اور «عن عائشة» کا ذکر نہیں کیا،  ٣ - اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔   

 تخریج دارالدعوہ:  صحیح مسلم/الإیمان ٨٩ (٢٠٥)، سنن النسائی/الوصایا ٦ (٣٦٧٨) ویأتي عند المؤلف برقم ٣١٨٤ (تحفة الأشراف: ١٧٢٣٧)، و مسند احمد (٦/١٧٨) (صحیح  )   

 وضاحت:  ١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ تں ہی عذاب دینا چاہے تو میں تمہیں اس کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، کیونکہ میں کسی کے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں، البتہ دنیاوی وسائل جو مجھے اللہ کی جانب سے حاصل ہیں، ان میں سے جو چاہو تم لوگ مانگ سکتے ہو، میں دینے کے لیے تیار ہوں۔   

 قال الشيخ الألباني:  صحيح   

 صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2310قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِىْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّـٰهُ ۚ وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْـثَرْتُ مِنَ الْخَيْـرِۚ وَمَا مَسَّنِىَ السُّوٓءُ ۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْـرٌ لِّـقَوْمٍ يُؤْمِنُـوْنَ (188)

کہہ دو میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے، اور اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا، اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی، میں تو محض ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان دار ہیں۔

Comments