حلالہ کرنے حرام

 جامع ترمذی

کتاب: نکاح کا بیان

باب: حلالہ کرنے اور کرانے والا

حدیث نمبر: 1119


ترجمہ:

علی ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت بھیجی ہے  ١ ؎۔   

 امام ترمذی کہتے ہیں:  ١- علی اور جابر ؓ کی حدیث معلول ہے،  ٢- اسی طرح اشعث بن عبدالرحمٰن نے بسند «مجالد عن عامر هو الشعبي عن الحارث عن علي» روایت کی ہے۔ اور عامر الشعبی نے بسند «جابر بن عبد اللہ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے،  ٣- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ مجالد بن سعید کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے۔ انہی میں سے احمد بن حنبل ہیں،  ٤- نیز عبداللہ بن نمیر نے اس حدیث کو بسند «مجالد عن عامر عن جابر بن عبد اللہ عن علي» روایت کی ہے، اس میں ابن نمیر کو وہم ہوا ہے۔ پہلی حدیث زیادہ صحیح ہے،  ٥- اور اسے مغیرہ، ابن ابی خالد اور کئی اور لوگوں نے بسند «الشعبی عن الحارث عن علی» روایت کی ہے،  ٦- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔   

 تخریج دارالدعوہ:  تفرد بہ المؤلف من حدیث جابر، ومن حدیث علی أخرجہ کل من: سنن ابی داود/ النکاح ١٦ (٢٠٧٦)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٣ (١٩٣٤)،  ( تحفة الأشراف: ٢٣٤٨ و ١٠٠٣٤)، مسند احمد (١/٨٧) (صحیح) شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ جابر کی حدیث میں " مجاہد " اور علی ؓ کی حدیث میں " حارث اعور " ضعیف ہیں)   

 وضاحت:  ١ ؎: «محلل» وہ شخص ہے جو طلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح و مباشرت کرے، اور «محلل لہ» سے پہلا شوہر مراد ہے جس نے تین طلاقیں دی ہیں، اور طریقہ سے اپنی عورت سے دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہے یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اور حرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے، جمہور اس کی حرمت کے قائل ہیں، حنفیہ اسے جائز کہتے ہیں۔   

 قال الشيخ الألباني:  صحيح، ابن ماجة (1535)   

 صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1119Jame' Tirmidhi  جامع ترمذی

Hadith # 1119


Translation:

Sayyidina jabir Ibn Abdullah (RA) and Sayyidina Ali (RA)reported that Allah’s Messenger ﷺ cursed the muhill and the muhallil (the one who considers the unlawful as lawful, or makes it lawful for the first husband, and the one who gets it done for himself).   [Abu Dawud 2026, Ibn e Majah 1935]   --------------------------------------------------------------------------------حلالہ کوئی شرعی اصطلاح نہیں ، عرف عام میں حلالہ کا معنی  یہ ہے : جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے، اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد  کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے، تاہم اس میں   طلاق کی شرط کے  ساتھ  حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے  اور  جس شخص کے لیے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے۔

            شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا، تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے ، لیکن جب وہ اپنا  یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے، جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3 / 413) ط: سعید

أما التحليل فقد شدد الشرع في ثبوته، ولذا قالوا: إن شرعيته لإغاظة الزوج عومل بما يبغض حين عمل أبغض ما يباح فلذا اشترطوا فيه الوطء الموجب للغسل بإيلاج الحشفة بلا حائل في المحل المتيقن احترازا عن المفضاة والصغيرة من بالغ، أو مراهق قادر عليه بعقد صحيح لا فاسد ولا موقوف ولا بملك يمين.

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144103200606

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

 

Comments