طلاق کہ بارے میںحدیث
سنن ابن ماجہ
کتاب: طلاق کا بیان🔎
(2) سورۃ البقرۃ
(مدنی — کل آیات 286)
طلاق دو مرتبہ ہے، پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے، اور تمہارے لیے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں جو تم نے انہیں دیا ہے مگر یہ کہ دونوں ڈریں کہ اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھ سکیں گے، پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ عورت معاوضہ دے کر پیچھا چھڑا لے، یہ اللہ کی حدیں ہیں سو ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا سو وہی ظالم ہیں۔
باب: طلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2016Ibn-e-Majah سنن ابن ماجہ
Hadith # 2016
Translation:
It was narrated from Umar bin Khattab that the Messenger of Allah ﷺ divorced Hafsah then took her back. (Sahih)سنن ابن ماجہ
کتاب: طلاق کا بیان
باب: سنت طلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2020
ترجمہ:
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو اس طہر میں ایک طلاق دے جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الطلاق ٢ (٣٤٢٣)، (تحفة الأشراف: ٩٥١١) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: تاکہ عورت کو عدت کے حساب میں آسانی ہو، اور اسی طہر سے عدت شروع ہوجائے، تین طہر کے بعد وہ مطلقہ بائنہ ہوجائے گی، عدت ختم ہونے کے بعد وہ دوسرے سے شادی کرسکتی ہے، طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو، اور شرط یہ ہے کہ اس طہر سے پہلے جو حیض تھا اس میں طلاق نہ دی ہو، یا حمل کی حالت میں جب حمل ظاہر ہوگیا ہو اور اس کے سوا دوسری طرح طلاق دینا (مثلاً حیض کی حالت میں یا طہر کی حالت میں جب جماع کرچکا ہو یا حمل کی حالت میں جب وہ ظاہر نہ ہوا ہو، لیکن شبہ ہو، اسی طرح تین طلاق ایک بار دینا حرام ہے اور اس کا ذکر آگے آئے گا) اور حدیث میں جو ابن عمر ؓ کو حکم ہوا کہ اس طہر کے بعد دوسرے طہر میں طلاق دیں، تو اس میں یہ حکمت تھی کہ طلاق سے رجعت کا علم نہ ہو تو ایک طہر تک عورت کو رہنے دے، اور بعضوں نے کہا کہ یہ سزا ان کے ناجائز فعل کی دی، اور بعضوں نے کہا یہ طہر اسی حیض سے متعلق تھا جس میں طلاق دی گئی تھی اس لئے دوسرے طہر کا انتظار کرے۔سنن ابن ماجہ
کتاب: طلاق کا بیان
باب: سنت طلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2021
ترجمہ:
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو ہر طہر میں ایک طلاق دے، جب تیسری بار پاک ہو تو آخری طلاق دیدے، اور اس کے بعد عدت ایک حیض ہوگی ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اس لئے کہ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد دو حیض پہلے گزر چکے ہیں، یہ صورت اس وقت ہے، جب کہ عورت کو تین طلاق دینی ہو، اور بہتر یہ ہے کہ جب عورت حیض سے پاک ہو تو ایک ہی طلاق پر قناعت کرے، تین حیض یا تین طہر گزر جانے کے بعد وہ مطلقہ بائنہ ہوجائے گی۔ اس میں یہ فائدہ ہے کہ اگر مرد عدت گزر جانے کے بعد بھی چاہے تو اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے، لیکن تین طلاق دینے کے بعد وہ اس سے اس وقت تک شادی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے سے شادی نہ کرلے، پھر وہ اسے طلاق دے دے۔سنن ابن ماجہ
کتاب: طلاق کا بیان
باب: سنت طلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2022
ترجمہ:
ابو غلاب یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر ؓ کو پہچانتے ہو؟ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی تو عمر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ ابن عمر رجوع کرلیں، میں نے پوچھا: کیا اس طلاق کا شمار ہوگا؟ انہوں نے کہا: تم کیا سمجھتے ہو، اگر وہ عاجز ہوجائے یا دیوانہ ہوجائے (تو کیا وہ شمار نہ ہوگی یعنی ضرور ہوگی) ۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الطلاق ٢ (٥٢٥٢)، صحیح مسلم/الطلاق ١ (١٤٧١)، سنن ابی داود/الطلاق ٤ (٢١٨٣)، سنن النسائی/الطلاق ٥ (٣٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ٨٥٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣، ٥١، ٧٤، ٧٩) (صحیح )سنن ابن ماجہ
کتاب: طلاق کا بیان
باب: ایسا شخص جو اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیدے۔
حدیث نمبر: 2024
ترجمہ:
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس ؓ سے کہا: آپ مجھ سے اپنی طلاق کے بارے میں بیان کریں، تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے یمن کے سفر پر نکلتے وقت مجھے تین طلاق دی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو جائز رکھا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الطلاق ٦ (١٤٨٠)، سنن ابی داود/الطلاق) ٣٩ (٢٢٩١)، سنن الترمذی/الطلاق ٥ (١١٨٠)، سنن النسائی/الطلاق ٧ (٣٤٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٢٥) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اس حدیث سے جمہور علماء و فقہاء نے دلیل لی ہے کہ اگر کوئی ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو تینوں پڑجائیں گی، اس مسئلہ میں تین مذہب اور ہیں، ایک یہ کہ کچھ نہیں پڑے گا، نہ ایک نہ تین، کیونکہ اس طرح طلاق دینا بدعت اور حرام ہے، اس مذہب کو ابن حزم نے امام احمد سے بھی نقل کیا ہے، اور کہا کہ روافض کا بھی یہی مذہب ہے، واضح رہے کہ تابعین کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے۔ اور اہل بیت سے امام باقر، امام صادق اور ناصر کا بھی یہی مذہب ہے، اور ابوعبید اور بعض ظاہریہ بھی اسی کے قائل ہیں، کیونکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ طلاق بدعی نہیں پڑتی اور یہ بھی بدعی ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر عورت مدخولہ ہے تو تینوں پڑجائیں گی اور مدخولہ نہیں ہے تو ایک پڑے گی، ایک جماعت کا یہ قول ہے جیسے ابن عباس اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ۔ تیسرے یہ کہ ایک طلاق رجعی پڑے گی خواہ عورت مدخولہ ہو یا نہ ہو، اور ابن عباس ؓ کا صحیح ترین مذہب یہی ہے، اور ابن اسحاق، عطاء، عکرمہ اور اکثر اہل بیت اسی کے قائل ہیں، سارے مذاہب میں یہ صحیح ہے، امام شوکانی نے اس مسئلے پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے، اور چاروں مذاہب کے دلائل بیان کر کے اخیر قول کو ترجیح دی ہے، اور اس دور میں اس مسئلہ کو اختلافی قرار دیا ہے۔ علامہ ابن القیم (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے یہ صحیح اور ثابت ہے کہ تین طلاق ایک ہی بار دینے سے ایک ہی طلاق پڑتی تھی عہد نبوت میں، اور ابوبکر ؓ کے عہد میں، اور شروع خلافت عمر ؓ میں، اور عمر ؓ نے لوگوں کو سزا دینے کے لئے یہ فتوی دیا کہ تینوں طلاقیں پڑجائیں گی، اور یہ ان کا اجتہاد ہے، جو اوروں پر حجت نہیں ہوسکتا، خصوصاً نبی کریم ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ کا فتوی ان کے اجتہاد سے رد نہیں ہوسکتا، اور ابن القیم نے اغاثۃ اللہ فان میں اس مسئلہ میں طویل کلام کیا ہے، اور ثابت کیا ہے کہ اس صورت میں ایک ہی طلاق پڑے گی، امام شوکانی کہتے ہیں: ابوموسی اشعری، ابن عباس، طاؤس، عطاء، جابر بن زید، احمد بن عیسی، عبد اللہ بن موسی، علی اور زید بن علی سے ایسا ہی منقول ہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم دونوں اسی طرف گئے ہیں، اور ابن مغیث نے کتاب الوثائق میں علی، ابن مسعود، عبدالرحمن بن عوف اور زبیر ؓ اور مشائخ قرطبہ کی جماعت سے ایسا ہی نقل کیا ہے، اور ابن منذر نے اصحاب ابن عباس ؓ سے ایسا ہی روایت کیا ہے کہ اس باب میں جو حدیثیں آئی ہیں ان سب میں ابن عباس ؓ کی یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، جو صحیح مسلم میں ہے کہ تین طلاقیں نبی کریم ﷺ اور ابوبکر ؓ کی خلافت اور شروع عمر ؓ کی خلافت میں ایک طلاق شمار ہوتی تھیں، جب عمر ؓ کا زمانہ آیا اور لوگوں نے پے در پے طلاق دینا شروع کی تو عمر ؓ نے تینوں طلاق کو ان پر نافذ کردیا۔ علامہ ابن القیم نے اس مسئلہ کی تحقیق میں کتاب و سنت اور لغت اور صحابہ کے عمل سے دلیل لی، پھر کہا کہ اللہ کی کتاب اور سنت رسول اللہ اور لغت اور عرف اسی پر دلالت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے خلیفہ اور صحابہ اور عمر ؓ کی خلافت میں بھی تین برس تک لوگ اسی پر چلتے رہے، اگر کوئی ان کا شمار کرے تو ہزار سے زیادہ ان کی تعداد ہوگی، کسی نے اقرار کیا، کسی نے سکوت اختیار کیا، اور بعضوں نے جو کہا کہ عمر ؓ کے زمانہ سے پھر لوگوں نے انہی کے فتوی پر اجماع کرلیا، تو یہ ثابت نہیں، ہر زمانہ میں علماء اسی عہد اول کے فتوی پر فتوی دیتے رہے، امت کے عالم عبداللہ بن عباس ؓ نے مروی حدیث کے مطابق فتوی دیا، اس کو حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ جب کسی نے ایک ہی دفعہ میں کہا: تجھ کو تین طلاق ہیں، تو ایک ہی طلاق پڑے گی، اور زبیر بن عوام، عبدالرحمن بن عوف ؓ نے بھی ایسا ہی فتوی دیا، یہ ابن وضاح نے نقل کیا ہے، اور تابعین میں سے عکرمہ، طاؤس نے ایسا ہی فتوی دیا اور تبع تابعین میں سے محمد بن اسحاق اور خلاس بن عمرو الہجری نے ایسا ہی فتوی دیا اور اتباع تبع تابعین میں داود بن علی اور ان کے اکثر اصحاب نے ایسا ہی فتوی دیا ہے، غرض یہ کہ ہر زمانہ میں علماء اور ائمہ اس قول کے موافق فتویٰ دیتے رہے، اور یہ قول بالاجماع متروک نہیں ہوا، اور کیونکر ہوسکتا ہے جب کتاب و سنت اور قیاس اور اجماع قدیم سے یہی ثابت ہے، اور اس کے بعد کسی اجماع نے اس کو باطل نہیں کیا، لیکن عمر ؓ نے ایک مصلحت سے اس کے خلاف رائے تجویز کی اور ان کا یہ فیصلہ کسی دوسرے پر حجت نہیں ہوسکتا، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ جب صحیح حدیث مل جائے تو اس پر عمل کرے اور اس کے خلاف کسی کے فتوی اور کسی کا قیاس قبول نہ کرے، خواہ وہ کوئی ہو، اور اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے إعلام الموقعين، إغاثة اللهفان، رسالہ شوکانی، نیل الاوطار، مسک الختام، سنن ابن ماجہ مع حاشیہ مولانا وحیدالزمان حیدرآبادی کی طرف رجوع کیجئے، نیز تسمية المفتين کے نام سے ایک رسالہ اردو میں ترجمہ کر کے شائع کیا ہے جس میں قدیم و جدید علماء کی ایک بڑی تعداد کا ذکر ہے جو تین طلاقوں کو ایک قرار دیتی ہے۔ (فریوائی )
ترجمہ:
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ام المؤمنین حفصہ ؓ کو طلاق دے دی پھر رجوع کرلیا۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطلاق ٣٨ (٢٢٨٣)، سنن النسائی/الطلاق ٧٦ (٣٥٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٩٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطلاق ٢ (٢٣١٠) (صحیح )
Comments
Post a Comment